ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / بھٹکل میں خوف پیدا کرتے  آوارہ کتے : مقامی انتظامیہ کی غفلت سے عوام کو پریشانی

بھٹکل میں خوف پیدا کرتے  آوارہ کتے : مقامی انتظامیہ کی غفلت سے عوام کو پریشانی

Sat, 03 Aug 2019 20:09:15    S.O. News Service

بھٹکل:3؍اگست   (ایس اؤ نیوز) شہر سمیت تعلقہ بھر کے تقریباً ہر دیہات میں آوارہ کتوں کی آوارگی سے کافی ہراسانی ہورہی ہے۔ آوارہ کتوں کی وجہ سے دیگر جانوروں اور پرندوں کو بھی خطرہ لاحق ہوگیاہے۔اس سلسلےمیں مقامی انتظامیہ کی خاموشی سے پریشان عوام کافی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔ 

بھٹکل شہری حدود  کے کچرے کے ڈھیروں  میں آوارہ کتے  غذا کی تلاش کرتے ہوئے   دن گزارتے ہیں رات ہوتے ہی گھر، دکان وغیرہ پر دھاوابولتےہیں۔حالات ایسےہیں کہ  بزرگوں ، عورتوں ، بچوں کو کتے نظر آتے ہی ڈر جاتےہیں۔ قریہ قریہ آوارہ کتوں سے پریشانی ہورہی ہےحد تویہ ہےکہ چرنے چھوڑےہوئے جانوروں پر بھی کتے حملہ کررہے ہیں، جس کےنتیجےمیں ابھی تک کچھ جانور ہلاک بھی ہوچکےہیں۔ چند کتے سواریوں کا ایسا پیچھا کرتےہیں کہ دیوانے ہونے کا شبہ ہوتاہے۔ بعض دفعہ انسانوں پر بھی چڑھ آتے ہیں۔ خیال رہےکہ منڈلی میں ایک معمر خاتون کتے کے کاٹنے سے ہلاک ہوچکی ہیں۔ بارش کے موسم میں کتے رات کے اوقات میں گھروں میں گھس آنا ،گھر کے سامنے رکھے ہوئے چپل ، سامان کو کاٹ کر نقصان پہنچارہے ہیں۔ رات بھر آپس میں لڑتے بھڑتے نیندیں تو حرام کررہےہیں۔ پچھلے دو تین مہینوں سے کتوں کی آوارگی میں کافی حد تک اضافہ ہواہے۔ افسوس کہ اس پر قدغن لگانے کی کہیں سے بھی کوشش نہیں ہونے کو لےکر عوام میں نارضگی ہے۔

آوازہ کتوں کو روکنےمیں مقامی انتظامیہ کا بہت بڑا رول ہوتاہے۔ پنچایت انتظامیہ کو اس زمرےمیں اپنے فنڈ کا استعمال کرنے کا اختیار ہے۔ جب کسی کو کتے کاٹ لیتے ہیں ہنگامہ کھڑا ہوتاہےتو تبھی میونسپالٹی ، پنچایت وغیرہ بیدار ہوتےہیں۔ کتوں کو ٹھکانے لگانےکے لئے ضرورت ہے کہ ٹینڈر کے ذریعےاس کا کام کیاجائے۔

تعلقہ کے میونسپالٹی، جالی پٹن پنچایت اور گرام پنچایت حدود میں ایک اندازے کے مطابق 1475آوارہ کتے گھومنے کے متعلق بھٹکل سے اعلیٰ افسران کو رپورٹ ارسال کی گئی ہے۔ جالی پٹن پنچایت حدود میں 174اور میونسپالٹی حدود میں 200 اور تعلقہ کے مختلف گرام پنچایتوں میں آوارہ کتوں کی تعداد 1000سے زائد ہے۔ بھٹکل تعلقہ کے آوارہ کتوں کے متعلق ڈی سی کے سامنے گفتگو ہوئی ہے، اس کو روکنے کے لئے کارروائی کرنا باقی ہے۔بھٹکل کے مویشی  ماہر ڈاکٹر وویکانند ہیگڈے کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ریبس بیماری میں مبتلا کتوں کے علاج ہے۔ بقیہ کتوں کو واکسی نیشن مہیا کریں گے۔ لیکن کتوں کی آوارگی پر روک لگانے کاکام متعلقہ پنچایت، میونسپالٹی انتظامیہ کو ہی کرنا ہوگا۔


Share: